Skip to Content

خونی چاندوں کی نمود، صہیونیوں کا پانچ صدیوں سے انتظار غلام محی ا

by UCERD.COM

زمیں، سورج اور مریخ ایک ہی قطار میں آ جاتے ہیں۔ اس ترتیب کے نتیجے میں چاند کا رنگ خون کی طرح سرخ ہو جاتا ہے۔ فوٹو: فائل
Image
اسلام آباد: سالِ رواں کے آغاز میں جب ماہرین فلکیات نے پیش گوئی کی کہ 15 اپریل سے آسمان پرسرخ چاند گرہن کا آغاز ہونے والا ہے تو ساتھ ہی کار پوریٹ عالمی میڈیا میں نجوم کے ماہرین کے بیانات بھی آنے لگے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کا گرہن اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب زمیں، سورج اور مریخ ایک ہی قطار میں آ جاتے ہیں۔ اس ترتیب کے نتیجے میں چاند کا رنگ خون کی طرح سرخ ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ اس طرح کی خونی رنگت والے چاند کے نظارے کو دنیا کے خاتمے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے ظہور کی نشانی قرار دیتے ہیں لیکن ایسے گرہن کے بعد جب چاند سرخ ہو جاتا ہے تو اہل یہود اس کو دنیا کی بادشاہت حاصل ہونے کی سنہری نوید قرار دیتے ہیں۔ خونی چاند گرہن مکمل چاند گرہن کو کہا جاتا ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے بھی سال 2014 اور 2015 میں ’’بلڈ مون‘‘...


[ Continued ]
Last edited by UCERD.COM on Wed Oct 08, 2014 4:36 pm, edited 8 times in total.
Please Promote Our Work and website through yoursocial and professional network. We would highly appreciate your help.
Find us on FaceBook,Like and Share Please
 

1 blog • Page 1 of 1