Taxation System

The economic system discussion group deals with the production, distribution and consumption of goods and services in a particular society.
Forum rules
This forum deals with the production, distribution and consumption of goods and services.
Codes of businesses, and taxation system etc.

Taxation System

Unread postby UCERD.COM » Thu Jun 13, 2013 3:30 pm

Islam considers all indirect taxes including GST and VAT as haraam. In this type of tax, both the rich and the poor are taxed equally which is completely unfair. In Islam all the taxes are imposed only on the rich people like Kharaaj, Usher, Rikaz etc. In the Islamic revenue system, a huge sum is collected through Zakat and protecting a portion of public properties like Oil, Gas, Coal and Minerals etc for the state expenditure which, in the current capitalist system, is being pocketed by the foreign multinational companies by gaining ownership over this public assets. Besides these sources of revenues, the state cannot impose any tax on the common man. The Prophet warned the collector of such taxes with hell fire. The Prophet صلى الله عليه وسلم said;

لا یدخل الجنۃ صاحب المکس
"The one who collects tax (maks) will not enter into paradise" [Ahmed, Abu Dawood, Al-Hakim]
And he صلى الله عليه وسلم said;
وان صاحب المکس فی النار
"The one who collects tax (maks) is in hell fire" [Ahmed]

Current Economic System is totally dependent upon taxes which do not take care wheter payer is Rich or Poor. This system destroys the industrialists, traders and the common masses.



عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَکْسٍ یَعْنِی الْعَشَّارَ
(سنن الترمذی ،ج:۳،ص:۳۰،رقم:۵۷۴۔مسند احمد،ج:۳۵،ص:۱۶۶،رقم:۱۶۶۵۶)

’’حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ صاحب مکس (یعنی ٹیکس وصول کرنے والا)جنت میں داخل نہیں ہوگا یعنی دسواں حصہ لینے والا ‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسلمانوں سے وصول کئے جانے والے ٹیکس کی شرعی حیثیت

’’اچھے شہری کے اوصاف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ٹیکس پورا پورا ادا کرتا ہے…!کیا آپ پورا پوراٹیکس ادا کرتے ہیں…؟کیا آپ ٹیکس چوری نہیں کرتے…؟ٹیکس چوری کرنا ایک خیانت ہے…!‘‘
یہ وہ جملے ہیں جو کہ معاشرے میں عام لوگوں کے علاوہ اکثر اہل علم اور دانشور حضرات بھی اپنی گفتگوؤں،بیانات اور دروس میں بلا جھجک استعمال کرتے ہیں اور عوام الناس کی دیانت داری کو بھی ٹیکس کی ادائیگی سے ہی جانچتے ہیں۔اسی طرح بعض حضرات یہ کہتے ہیں عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں چونکہ ملی و قومی ضروریات محدود تھیں اور آج کے جدیدد دور میں قومی و حکومتی اخراجات بڑھ گئے ہیں لہذا ایک اسلامی حکومت عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق زکوۃ وصول کرنے کے علاوہ نئے نئے ٹیکس بھی لگاسکتی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت اگر اسلامی ہو تو اس کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ لوگوں کے اموال ظاہرہ میں سے مختلف اشیاء مثلاًاموال تجارت،زراعت،جانوروں اورمعدنیات وغیرہ پر شریعت کی مقررکردہ شرح کے مطابق وصول کرے اور یہ زکوۃ بیت المال میں جمع کی جائے اور اس کو عوام الناس کی فلاح و بہبود پر خر چ کیا جائے ،باقی اموال باطنہ میں زکوۃ کا معاملہ عوام الناس پر چھوڑدیا گیا کہ وہ خود اس کی زکوۃ ادا کریں۔
یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ ٹیکس آمدنی پر وصول کئے جاتے ہیں جس میں اس بات کی کوئی تمیزنہیں رکھی جاتی کہ ٹیکس اداکرنے والے کی آمدنی اس کی ضروریات کو پورا کرپارہی ہیں یا نہیں یا کہیں وہ خود مستحق زکوۃ تو نہیں۔لہذا موجودہ صورتحال میں یکطرفہ تماشہ یہ ہے کہ مختلف حکومتیں ملکی وقومی ضروریات کو پورا کرنے کے نام پر(زکوۃکی وصولی کے علاوہ)مختلف ٹیکس مختلف طریقوں کے ذریعے عوام الناس سے وصول کرنے پر مصر ہیں جن میں بلاواسطہ یا براہ راست(Direct)ٹیکس بھی ہیں مثلاًانکم ٹیکس ،پراپرٹی ٹیکس اور دولت ٹیکس وغیرہ ،اور بالواسطہ(Indirect)ٹیکس بھی شامل ہیں مثلاًسیلز ٹیکس ،ایکسائز ٹیکس جوکہ وصول تو کئے جاتے ہیں صنعت کار اور تاجروں سے لیکن ظاہر ہے ان کا اصل بوجھ عام آدمی پرہی پڑتا ہے اور فی زمانہ یہ دوسرے قسم کے ٹیکس ہی حکومت کی سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔لہٰذا حقیقت حال یہ ہے کہ عوام الناس کی فلاح و بہبود کے نام پر جو ٹیکس لئے جاتے ہیں انہیں ٹیکسوں کی وجہ سے عوام الناس کا عرصہ ٔ حیات تنگ ہوتا جارہا ہے اور معاشرہ معاشی طور پر تباہی و بربادی کی طرف بڑھ رہاہے ۔

مکمل کتاب ڈاونلوڈ کریں
Image
Please Promote Our Work and website through yoursocial and professional network. We would highly appreciate your help.
Find us on FaceBook,Like and Share Please
User avatar
UCERD.COM
Site Admin
Site Admin
 
Posts: 958
Joined: Wed Jun 20, 2012 3:01 pm
Location: Barcelona
Has thanked: 13 times
Been thanked: 14 times
Blog: View Blog (1)

Return to Economic system

Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 1 guest

cron