Pakistan's Constitution & Reason of Creation - Quaid e Azam

Group discusses the purpose of state, fundamental rights, exclusive and legislative systems.
Forum rules
Please keep your topics relevant to the purpose of state, fundamental rights, exclusive and legislative systems.

Pakistan's Constitution & Reason of Creation - Quaid e Azam

Unread postby UCERD.COM » Thu Dec 26, 2013 10:01 am

Image
Pakistan and Quran : 
Watch on dailymotion.com
Pakistani Islami Constitutions Hypocrisy : 
Watch on facebook.com
Think realistically - Conspiracy against Pakistan : 
Watch on vimeo.com
Watch on dailymotion.com
Please Promote Our Work and website through yoursocial and professional network. We would highly appreciate your help.
Find us on FaceBook,Like and Share Please
User avatar
UCERD.COM
Site Admin
Site Admin
 
Posts: 958
Joined: Wed Jun 20, 2012 3:01 pm
Location: Barcelona
Has thanked: 13 times
Been thanked: 14 times
Blog: View Blog (1)

کیا پاکستان کا آئین اسلامی

Unread postby UCERD.COM » Wed Feb 26, 2014 4:17 pm

کیا پاکستان کا آئین اسلامی : 
Urdu II : آئینِ پاکستان کو اسلامی سمجھنے والوں کے لیے لمحہ فکریٔہ

تحریر: شیخ ابو بکر
پیشکش: ابن حَــــــــــــــــــــرم میڈیا

جب سے ملک پاکستان میں حکومت اور طالبانِ پاکستان کے مابین مذاکرات کا معاملہ کھڑا ہوا، یہ بحث بھی ساتھ کھڑی ہوگئی ہے کہ کیا پاکستان کا آئین اسلامی ہے ؟ حکومت کے ساتھ سیکولر سیاسی جماعتیں اور دینی جماعتوں کے قائدین اور عوام میں مشہور و معروف علماء بھی آئینِ پاکستان کو عین "اسلامی" قرار دے کر اسی کے ماتحت مذاکرات کرنے پر مصر نظر آئے اور اس سے ماوراء مذاکرات کسی صورت راضی نہ ہوئے۔ جبکہ دوسری طرف طالبانِ پاکستان کا بھی یہ اصرار تھا کہ وہ آئینِ پاکستان کو ہی اسلامی نہیں مانتے چہ جائے کہ اس کے تحت مذاکرات کئے جائیں۔ کیونکہ اگر آئین پاکستان اسلامی ہوتا تو پھر یہ جنگ وجدال کرنے کی کیا ضرورت تھی !

اب جبکہ طالبان پاکستان آئینِ پاکستان کو مکمل طور پر غیر اسلامی قرار دے کر اس کے تحت مذاکرات سے انکاری ہوچکے ہیں، بڑے معزز مفتیان کرام اور علماء عظام جن کی شہرت کا ڈنکے پوری دنیا میں بج رہے ہیں، لگتا ہے خم ٹھوک کر میدان میں آگئے ہیں اور ہر طرف سے ایک ہی فتویٰ جاری کیا جارہا ہے کہ ’’پاکستان کا آئین اسلامی ہے‘‘۔

اس بحث کو الگ رکھتے ہوئے کہ کیا شریعت کی روشنی میں الگ سے کسی آئین کی تدوین و تنقیذ کی ضرورت ہے، ہم طویل بحث و تحقیق سے بچتے ہوئے آئینِ پاکستان میں موجود چند چیدہ چیدہ قوانین کو شریعت کے پیمانے پر پرکھ لیتے ہیں تاکہ منصفانہ طور پر اس بات کا ادراک کیا جاسکے کہ کیا واقعتاً پاکستان کا آئین اسلامی ہے ؟ اور اس ضمن میں حکومت، سیکولر و دینی سیاسی جماعتوں اور چند معروف علماء کا مؤقف درست ہے یا پھر جو مؤقف طالبانِ پاکستان کا ہے وہ اصل حقیقت اور سچائی ہے!؟

سیاسی طور پر آئینِ پاکستان کے قوانین کا شرعی قوانین سے موازنہ

٭آئینِ پاکستان کے تحت صدر کے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اگر کوئی کام کرتا ہے (چاہے وہ شریعت سے متصادم ہی کیوں نہ ہو) تواس کو کوئی شخص بھی کسی عدالت میں چیلنج نہیں کرسکتا۔

٭شریعت میں کسی بھی سربراہ مملکت کو ایسے کوئی بھی صوابدیدی اختیارات حاصل نہیں ہوتے جوکہ شریعت سے متصادم ہوں۔

٭آئینِ پاکستان کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی سزا یافتہ مجرم مثلاً قاتل کو مقتول کے ورثاء کی مرضی کے برعکس معاف کردے۔

٭شریعت میں کسی بھی سزا یافتہ مجرم مثلاً قاتل کو مقتول کے ورثاء کے علاوہ کوئی اور کسی بھی صورت معاف نہیں کرسکتا۔

٭آئینِ پاکستان کے تحت اس بات کی کوئی قید نہیں کہ سربراہ مملکت عورت ہو یا مرد۔ عورت کو بھی سربراہ مملکت بنایا جاسکتا ہے۔

٭شریعت میں اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ عورت کو بطور سربراہ مملکت (صدر یا وزیر اعظم) کے عہدے پر فائز کردیا جائے۔

٭آئینِ پاکستان کے تحت اعلیٰ عدالتوں کے جج کے لئے مسلمان اور عادل ہونے کی کوئی شرط نہیں ہے۔ کافر اور فاجر شخص بھی اعلیٰ عدالتوں کا جج بن سکتا ہے (جیسے جسٹس بھگوان داس کا سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بننا)۔

٭شریعت میں قاضی کے لئے مسلمان اور عادل ہونے کی شرط لازمی ہے۔

معاشی طور پر آئینِ پاکستان کے قوانین کا شرعی قوانین سے موازنہ

٭شریعت میں سود کی حرمت وشناعت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے اعلانِ جنگ قرار دیا گیا ہے۔

٭جبکہ آئینِ پاکستان کی رو سے یہ جائز ہے۔ بس آئین میں ایک نمائشی وعدہ کیا گیا ہے کہ سود کو جلد ختم کیا جائے گا۔ اسی طرح سودی نظام کو جاری و ساری رکھنے کے لئے عدالتی طور پر اس کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک باقاعدہ بینکوں کے لئے شرح سود کا اعلان کرتا ہے۔

٭شریعت میں شراب کی حرمت بھی سب پر واضح ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس کی تیاری اور اس کی خرید وفروخت پر بھی سزائیں موجود ہیں۔

٭آئینِ پاکستان کے تحت شراب کے خرید وفروخت کے باقاعدہ پرمٹ جاری کئے جاتے ہیں۔ جہاں سے مسلمان اور کافر دونوں بلا روک ٹوک شراب خریدتے ہیں اور اب تو باقاعدہ شراب قانونی طور پر ایکسپورٹ کی جارہی ہے۔

معاشرتی طور پر آئینِ پاکستان کے قوانین کا شرعی قوانین سے موازنہ

٭شریعت میں دوسری شادی کرنے کے لئے ایسی کوئی شرط سرے سے موجود ہی نہیں کہ دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لے۔

٭آئینِ پاکستان کے تحت کوئی شخص دوسری شادی اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک اس کی پہلی بیوی باقاعدہ اس کی اجازت نہیں دے دے، ورنہ بصورت دیگر وہ مجرم ٹہرے گا۔

٭شریعت میں پوتا اپنے دادا کی وراثت کا حقدار نہیں ٹہرتا اگر اس کا والد پہلے سے فوت شدہ ہو۔

٭آئینِ پاکستان کے تحت پوتا اپنے دادا کی وراثت کا حقدار ٹہرتا ہے جبکہ اس کا والد فوت ہوچکا ہو۔

٭شریعت میں وصیت و وراثت کا ایک طے شدہ پیمانہ مقرر ہے اس سے ماوراء کوئی بھی وصیت یا وراثت کی تقسیم کالعدم قرار پاتی ہے۔

٭جبکہ آئینِ پاکستان کے تحت اگر کسی شخص نے انتقال سے پہلے وصیت کے طور پر اپنا سارا مال کسی ایک وارث یا کسی غیر وارث کے حوالے کرجائے تو بہرصورت اس کو قبول کیا جاتا ہے۔

٭شریعت میں چور کی سزا اس کی جملہ شرائط کے ساتھ ہاتھ کاٹنے کی ہے۔

٭آئینِ پاکستان میں چور کی زیادہ سے زیادہ سزا 3 سے 7 سال ہے۔

٭شریعت میں غیر شادی شدہ زناء کار کی سزا 100 کوڑے ہیں اور شادی شدہ کے لئے رجم کی سزا ہے۔

٭جبکہ آئینِ پاکستان میں دونوں صورتوں میں سزا 5 سال اور دس ہزار روپے جرمانہ ہے۔

٭شریعت میں زناء بالجبر کی سزا غیر شادی شدہ کے لئے 100 کوڑے اور شادی شدہ کے لئے رجم کی سزا ہے۔

٭آئینِ پاکستان میں زناء بالجبر کی سزا کوڑے اور رجم کے بجائے سزائے موت یا 25 سال قید ہے۔

٭شریعت میں بلوغت کا شمار اس کے آثار ظاہر ہونے پر کیا جاتا ہے یا پھر لڑکی کے لئے زیادہ سے زیادہ 11 سال اور لڑکے کے لئے 14 سال ہے۔

٭آئینِ پاکستان میں بلوغت کا شمار بہر صورت 18 سال کی عمر سے کیا جاتا ہے۔

یہ تھے آئینِ پاکستان کے چند قانونی نکات، ورنہ باقی تو پورا آئین اسلامی قوانین کی مخالفت سے بھرا ہوا ہے، یا تو آئینِ پاکستان کے قوانین شرعی قوانین سے بالکل متصاد م ہیں یا پھر شرعی قوانین کو توڑ مروڑ کر اور ترمیم و تخفیف کرکے شامل کیا گیا ہے۔

صحیح بخاری اور دیگر کتب احادیث میں یہ واقعہ موجود ہے کہ: رسول اللہﷺ کے زمانے میں یہود کے علماء نے زناء کی سزاء ترمیم و تخفیف کی اور اس کا نفاذ کیا۔ ایک دفعہ جب رسول اللہﷺ کے سامنے یہ منظر آیا کہ شادی شدہ زناء کار کی سزا رجم کو منہ کالا کرنے اور گدھے پر بیٹھ کر اس کو گھما رہے تھے تو رسول اللہﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ کیا تورات میں اس کی یہ ہی سزا منقول ہے۔ پہل پہل تو یہود کے علماء نے تورات کے اصل حکم کو چھپایا لیکن عبد اللہ بن سلام جوکہ یہود کے علماء میں سے تھے اور ایمان لاچکے تھے تو انہوں نے تورات کی اصل سزا کی طرف اشارہ کیا تو وہ علمائے یہود نے بھی اعتراف کیا کہ تورات میں شادی شدہ زناء کار کی سزا رجم ہے۔ چناچہ رسول اللہﷺ نے رجم کی سزا کا اجراء کرتے ہوئے فرمایا: اللَّہُمَّ إِنِّی أَوَّلُ مَنْ أَحْیَا أَمْرَکَ إِذْ أَمَاتُوہُ فَأَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ ’’اے اللہ ! میں سب سے پہلے تیرے اس حکم کو زندہ کرتا ہوں جبکہ ان (اہل کتاب) نے اس کو مردہ کردیا تھا‘‘۔ چناچہ اس واقعہ کے پس منظر میں قرآن کی وہ آیتیں نازل ہوئی جس میں یہ حکم ربانی بھی ہے کہ:

{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ } (المائدۃ: ۴۴)

’’جو اللہ کے نازل کردہ کلام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی لوگ تو کافر ہیں۔‘‘

بس جس آئین کے قوانین شریعت کے اہم اہم احکامات سے متصادم ہوں یا پھر اس میں قانونی طور پر شرعی قوانین کی ترمیم وتخفیف کردی گئی ہوتو کیا ایسا آئین کسی صورت اسلامی قرار پاسکتا ہے۔ شریعت میں تو وہ قاضی جو شرعی قوانین میں ترمیم وتخفیف کا مرتکب ہوا ہو اس کو دخول فی النار قرار دیا گیا ہے:

((یؤتی بوال نقص من الحد سوطاً ، فیقال لہ لم فعلت ذاک؟ فیقول رحمۃ لعبادک، فیقال لہ أنت أرحم بہم منی! فیؤمر بہ إلی النار ، ویؤتی بمن زاد سوطاً فیقال لہ لم فعلت ذلک؟ فیقول لینتہوا عن معاصیک ، فیقول أنت أحکم بہ منی!فیؤمر بہ إلی النار)) (تفیسرالرازی ج ۱۱ ص ۲۳۹۔ الکشاف ج ۴ ص ۳۷۵۔ بحوالہ: تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ ۳۴۴)

’’قیامت کے روز ایک حاکم لایا جائے گا جس نے حد میں سے ایک کوڑا کم کردیا تھا۔ پوچھا جائے گا یہ حرکت تو نے کیوں کی تھی؟ وہ عرض کرے گا آپ کے بندوں پر رحم کھاکر۔ ارشاد ہوگا کہ کہ اچھا! تو ان کے حق میں مجھ سے زیادہ رحیم تھا ! پھر حکم ہوگا کہ لے جائو اسے دوزخ میں۔ ایک اور حاکم لایا جائے گا جس نے حد پر ایک کوڑے کا اضافہ کردیا تھا۔ پوچھا جائے گا کہ تو نے یہ کس لئے کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا تاکہ لوگ آپ کی نافرمانیوں سے باز رہیں۔ ارشاد ہوگا کہ تو ان کے معاملے میں مجھ سے زیادہ حکیم تھا ! پھر حکم ہوگا لے جائو اسے دوزخ میں‘‘۔

بس جس طرح اگر کسی بوتل میں شراب ڈال کر اس کے اوپر پانی یا آب زمزم لکھنے سے وہ شراب اسلامی قرار نہیں پاسکتی، بالکل اسی طرح جس آئین کے ماتھے پر صرف اسلامی لکھ دیا گیا ہو اور اس کے اندر اکثر قوانین صریحاً خلافِ اسلام ہوتو وہ کس طور پر ’’اسلامی‘‘ قرار پاسکتا ہے۔ بس جو لوگ بھی اس آئین کو اس بنیاد پر اسلامی آئین قرار دینے پر مصر ہیں کہ اس کو ہمارے آبائو اجداد نے منظور کیا تھا تو ان کے لئے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ:

مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلَالِاٰبَآئِھِمْ کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا کَذِبًا (الکھف: ۵)

’’نہیں ہے ان کے پاس کوئی علم اور نہ ہی ان کے ابائو اجداد کے پاس، بڑی بری ہے بات جو کہ نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، وہ نہیں کہتے سوائے جھوٹ کے‘‘۔

اور جو لوگ اس غیر اسلامی آئین کو اسلامی مان کر اس کے نفاذ پر مسلمانوں سے جنگ پر آمادہ ہیں ان کے لئے تو یہ بشارت ہے:

{اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ o اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الْدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ} (آل عمران:۲۱۔۲۲)

’’جو لوگ اللہ کے احکام وہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو خلق خدا میں عدل وقسط کا حکم دینے کے لئے کھڑے ہوں، تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنادیجئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے، اور ان کا کوئی مددگار نہیں‘‘۔
Please Promote Our Work and website through yoursocial and professional network. We would highly appreciate your help.
Find us on FaceBook,Like and Share Please
User avatar
UCERD.COM
Site Admin
Site Admin
 
Posts: 958
Joined: Wed Jun 20, 2012 3:01 pm
Location: Barcelona
Has thanked: 13 times
Been thanked: 14 times
Blog: View Blog (1)


Return to Political System

Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 1 guest

cron