Ali Adnan Ertekin Menderes - September 17, 1961

The purpose of this forum is to discuss the history, various civilizations and the ways in which culture translates, transforms, and transcends the world around it.
“If the past has been an obstacle and a burden, knowledge of the past
is the safest and the surest emancipation” Lord Acton (1834-1902)
Forum rules
The purpose of this forum is to discuss the history, various civilizations and the ways in which culture translates, transforms, and transcends the world around it.

Ali Adnan Ertekin Menderes - September 17, 1961

Unread postby UCERD.COM » Wed Sep 18, 2013 4:05 pm

عدنان میندرس، ترکی کے وہ مظلوم وزیراعظم، جنہیں 1961ء میں آج ہی کے دن تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔
عدنان کا پہلا "جرم" یہ تھا کہ انہوں نے قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے اسمبلی کے ذریعے اُس قانون کو منسوخ کروایا جس کے تحت ترکی میں عربی زبان میں اذان دینے پر پابندی تھی اور فیصلےکے نتیجے میں 17 جون 1950ء کو 18 سال بعد ترکی کے طول و عرض میں عربی میں اذان دی گئی۔
ان کا دوسرا "جرم" مسلم دنیا میں "بابائے سیکولر ازم" مصطفیٰ کمال اتاترک کے مزار کے عین سامنے مسجد تعمیر کروانا تھا، جس کے لیے انہوں نے اپنی جیب سے ایک لاکھ لیرا (ترک کرنسی) دیے تھے۔

عدنان میندریس کا تیسرا "جرم" اتاترک عہد میں حج بیت اللہ پر عائد کی گئی پابندی اٹھانا تھا اور یوں ربع صدی یعنی 25 سال بعد 1950ء ہی میں 423 ترک باشندوں نے فریضۂ حج ادا کیا۔

عدنان میندریس نے وہ بیڑیاں بڑی حد تک کاٹیں جو ترکی میں قیامِ جمہوریت کے وقت اسلام کے پاؤں میں ڈال دی گئی تھیں۔

مئی 1960ء میں ترک فوج نے حکومت کا تختہ الٹ کر عدنان اور ان کی کابینہ کے چند اراکین کے خلافِ ضابطہ عدالت میں مقدمہ چلایا اور آئین کی خلاف ورزی کا بے بنیاد الزام لگاتے ہوئے عدنان سمیت چند افراد کو پھانسی کی سزا سنا دی۔ فوج پر "سیکولر ازم کے دفاع" کا جنون اس قدر سوار تھا کہ اس نے امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم سمیت کئی عالمی رہنماؤں کے مطالبوں کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا اور 17 ستمبر 1961ء کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی پانے والے دو دیگر سیاست دانوں میں عدنان کی کابینہ کے وزیر خارجہ فاتن رشتو زورلو بھی شامل تھے۔

لیکن عدنان کا خون رائیگاں نہیں گیا، اسلامی خیالات کے حامل سیاست دان ترک سیاست پر حاوی ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ 1995ء میں نجم الدین اربکان کی رفاہ پارٹی برسر اقتدار آئی اور چند ہی سالوں میں اس کو بھی برطرف کردیا گیا لیکن اس کے بعد عدالت و ترقی پارٹی برسر اقتدار آئی اور مسلسل تین انتخابات جیت چکی ہے اور اس وقت بھی سادہ اکثریت کے ساتھ پارلیمان میں موجود ہے۔

عدنان میندریس کو پھانسی دیے جانے پر پاکستان کے معروف شاعر نعیم صدیقی اِن الفاظ میں نوحہ کناں ہوئے:

مری فغانِ سحر! جا بہ درگہ عالی
وہ ایک ذات کہ ہے بے نواؤں کی والی
یہ دکھڑا روئیو روضے کی تھام کر جالی

بزیر شاخ گل افعی پلے گلستان میں
درندے چھا گئے تاریخ کے بیاباں میں
گھسے ہیں بھیڑیئے ملت کے قصر و ایواں میں

ترے چمن کو کیا مالیوں نے خود تاراج
ہزاروں ابن جمیرہ ہیں نت نئے حجاج
ہم اپنے تیروں کی بوچھاڑ کا ہیں خود آماج

پلے حرم میں رگوں میں ہے ان کی دیر کا خوں
یہ چھانٹ چھانٹ کر پیتے ہیں اہل خیر کا خوں
حسین پاک کا ، عبداللہ بن زبیر کا خوں

ہم ان درندوں کو صدیوں سے خوں پلاتے رہے
کلیجے کاٹ کر ہر شب انہیں کھلاتے رہے
ہماری ہڈیاں محلوں میں یہ چباتے رہے

غضب کے شعلے ہمیشہ یونہی بھڑکتے رہے
ترے غلاموں کے لاشے یونہی پھڑکتے رہے
ہزاروں سینوں میں دل خوف سے دھڑکتے رہے

وہ تیرے عشق کے مارے وہ بندگان وفا
وہ اہل صدق و صفا پیروان کیش رضا
انہی درندوں کے ہاتھوں ہوئے شہید جفا

یہ خود پرست کہ گم نشہ جلال میں ہیں
چھپے ہوئے یہ تصنع کی چال ڈھال میں ہیں
یہ بھیڑیئے ہیں مگر آدمی کی کھال میں ہیں

ہے دانہ جھولی میں کاندھے پہ ان کے دام بھی ہے
ہیں دیں سے بیر ، لبوں پہ خدا کا نام بھی ہے
بغل میں ان کے چھری منہ پہ رام رام بھی ہے

ہمیشہ دعویٰ ہے ان کا دلیل سے عاری
لگی ہے زعمِ خدائی کی ان کو بیماری
ہے ان کا ایک ہی مذہب سو وہ ہے خونخواری

وہ ناخنوں پہ وہ دامن پہ آستین پہ خوں
لبوں پہ خون ہے آنکھوں میں خوں جبین پہ خون
حضور دیکھئے سبزہ پہ خوں زمین پہ خوں

گلوں سے شاخوں سے پتوں سے بہہ رہا ہے لہو
بہار کرتی ہے ہر صبح اس لہو سے وضو
ہے تیرے باغ کی موج ہوا میں خون کی بو

کتابِ پاک کے اوراق خون آلودہ
چراغِ کعبہ کا ہے طاق خون آلودہ
دل و نگاہ کے آفاق خون آلودہ

نہ صرف دار کے اوپر سے موجِ خوں گزری
حضور آپ کے منبر سے موجِ خوں گزری
تھا جس میں سودا اسی سر سے موجِ خوں گزری

ستم کشیدہ ہے ملت، الم رسیدہ ہے
انہی کے پنجوں سے سارا بدن دریدہ ہے
ہزار زخموں کی ٹیسوں سے دل تپیدہ ہے

ترے پیام کی مشعل جلے تو کیسے جلے
ترا نظامِ مقدّس چلے تو کیسے چلے
عذاب ٹوٹ پڑا ہے، ٹلے تو کیسے ٹلے


بہت دراز ہوا اب یہ درد ناک عذاب
ہیں کتنے قرن سے تیرے غلام خانہ خراب
یہ تیرہ صدیوں کی شب اتنا ہولناک یہ خواب

اب ان درندوں سے ممکن نجات ہے کہ نہیں؟
حضور کوئی امیدِ حیات ہے کہ نہیں؟

Image
Image
Please Promote Our Work and website through yoursocial and professional network. We would highly appreciate your help.
Find us on FaceBook,Like and Share Please
User avatar
UCERD.COM
Site Admin
Site Admin
 
Posts: 958
Joined: Wed Jun 20, 2012 3:01 pm
Location: Barcelona
Has thanked: 13 times
Been thanked: 14 times
Blog: View Blog (1)

Re: Ali Adnan Ertekin Menderes - September 17, 1961

Unread postby Forrest5 » Tue Jan 14, 2014 11:49 am

I can understand this language but just a bit.
User avatar
Forrest5
 
Posts: 2
Joined: Tue Jan 14, 2014 11:46 am
Has thanked: 0 time
Been thanked: 0 time


Return to History & Civilizatoin

Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 1 guest

cron